دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ پاکستان میں ہے — شندور پاس، 3700 میٹر کی بلندی پر۔ گلگت، چترال اور سکردو کے پہاڑی دیہاتوں میں صدیوں سے پولو کھیلی جاتی ہے، اس وقت سے جب انگریزوں نے اس کے قوانین بھی نہیں بنائے تھے۔ اور لاہور میں — ہر پولو سیزن میں — ارجنٹینا، برطانیہ اور دنیا بھر سے بیس سے زیادہ غیر ملکی پیشہ ور کھلاڑی پرواز کر کے آتے ہیں۔ پاکستان دنیا کے سرفہرست دس پولو کھیلنے والے ممالک میں شامل ہے — اور یہ کہانی ابھی شروع ہو رہی ہے۔

سلطانوں کے زمانے سے لے کر آج تک

پولو پاکستان میں انگریزوں کے ساتھ نہیں آئی۔ یہ یہاں پہلے سے موجود تھی۔ سلطان قطب الدین ایبک — دہلی سلطنت کے پہلے سلطان — خود لاہور میں پولو کھیلتے ہوئے گھوڑے سے گرے اور 1210ء میں انتقال کر گئے۔ آج بھی لاہور پولو کلب کا سب سے قدیم ٹورنامنٹ — ایبک کپ — ان کے نام پر ہے۔ یہ محض ایک کھیل نہیں، یہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔

پاکستان پولو ایسوسی ایشن 1947ء سے اس کھیل کی نگہبان ہے اور 4-گول سے لے کر 14-گول سطح تک ٹورنامنٹ منعقد کرتی ہے۔ لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد اس کے مرکزی شہر ہیں — اور لاہور پولو کلب، لاہور گیریژن پولو گراؤنڈ اور جناح پولو فیلڈز (DHA) یہاں کے بڑے میدان ہیں۔

ٹورنامنٹ: ایک بھرپور کیلنڈر

پاکستان کا پولو کیلنڈر زبردست ہے۔ قائد اعظم گولڈ کپ — نیشنل اوپن — سب سے بڑا ٹورنامنٹ ہے جہاں 14-گول سطح کی ٹیمیں ارجنٹینی پیشہ ور کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلہ کرتی ہیں۔ ایبک کپ اب اپنی 48 ویں سالگرہ پر ہے — 2024 کے فائنل میں FG/Din پولو نے ڈائمنڈ پینٹس کو 4-3 سے شکست دی۔ پنک پولو کپ ایک سماجی اور کھیلی تقریب بن چکا ہے۔ اور شندور پولو فیسٹیول — جہاں ہزاروں لوگ پہاڑوں میں ٹریک کر کے آتے ہیں — اپنی ایک الگ ہی دنیا ہے۔

گھوڑے: جہاں کروڑوں کا کاروبار ہوتا ہے

اعلیٰ سطح کا پولو کھیلنا ہو تو عالمی معیار کے گھوڑے چاہیے — اور یہ گھوڑے کروڑوں روپے میں آتے ہیں۔ پاکستان کے بڑے پولو اسٹیبلز ارجنٹینا سے براہ راست Polo Argentino نسل کے گھوڑے درآمد کرتے ہیں — انگریزی Thoroughbred اور ارجنٹینی Criollo گھوڑوں کی ملاوٹ سے بنی یہ نسل تیز رفتاری، چستی اور طاقت کا نادر امتزاج ہے۔ ارجنٹینا میں ایک اعلیٰ پولو گھوڑے کی قیمت ایک لاکھ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

ریسنگ کی دنیا میں بھی یہی حال ہے۔ ارجنٹینی یا یورپی نسل کے Thoroughbred ریس گھوڑے پاکستان میں ایک کروڑ روپے سے اوپر بکتے ہیں — اور یہ محض شوق نہیں، یہ سرمایہ کاری ہے۔

دنیا کا پولو میدان — لاہور میں

آج لاہور کے پولو میدانوں میں ارجنٹینی کھلاڑی، برطانوی ریفری، اور غیر ملکی فیریئر (نعل بندی کے ماہر) باقاعدگی سے آتے ہیں۔ برطانوی کھلاڑی میکسویل چارلٹن — جو اپنے ملک کے تین بہترین پولو کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں — نے لاہور کے میدانوں کو "قابل تعریف" قرار دیا اور کہا کہ یہاں کا معیار واقعی بلند ہے۔ پاکستان کے ٹاپ کھلاڑی ہثام علی حیدر عالمی سطح پر مشہور ہیں — برطانیہ کے بڑے کلبوں میں بھی کھیل چکے ہیں۔

نعل کیوں اہم ہے؟

جب گھوڑے ایک لاکھ ڈالر کے ہوں تو کوئی چیز 'معمولی' نہیں رہتی — نعل بھی نہیں۔ اعلیٰ پولو میں نعل کا ڈیزائن، وزن، اور مواد براہ راست گھوڑے کی کارکردگی اور صحت پر اثر ڈالتا ہے۔ غلط نعل نہ صرف کارکردگی کا نقصان کرتی ہے بلکہ گھوڑے کو چوٹ بھی لگا سکتی ہے۔

Steel Kings High Goal: وہ نعل جس نے فرق ڈالا

Kerckhaert ایک ڈچ کمپنی ہے جو 150 سے زیادہ سالوں سے نعل بنا رہی ہے۔ Steel Kings High Goal ان کی پولو کے لیے مخصوص نعل ہے — تیز موڑ میں گرفت، کم وزن، اور زیادہ پائیداری۔ ارجنٹینی پیشہ ور کھلاڑی اسے پہچانتے ہیں کیونکہ یہ وہی معیار ہے جو وہ بیونس آئرس میں دیکھتے ہیں۔

Z-Stables کی کہانی: ایک ضرورت جو تحریک بن گئی

یہ سب شروع ہوا Z-Stables سے — ایک ریسنگ اسٹیبل جس نے اپنے گھوڑوں کے لیے Kerckhaert ٹریسنگ پلیٹس درآمد کیں۔ اس وقت یہ پاکستان میں دستیاب نہیں تھیں۔ جب ریسنگ کمیونٹی نے فرق دیکھا تو بات پھیلنے میں دیر نہ لگی۔

پھر Master Paints اور Sufi Amir نے Steel Kings High Goal کو پولو کی دنیا میں متعارف کرایا۔ جب ایک بڑے پولو گھرانے نے یہ نعل اپنائی تو باقی اسٹیبلز نے بھی توجہ دی۔ آج پاکستان کے پولو حلقوں میں Steel Kings High Goal کوئی نئی چیز نہیں — یہ ایک معیار بن چکا ہے۔ کچھ کھلاڑی تو یہ بھی کہتے ہیں کہ جب تک ان کے گھوڑے کو یہ نعل نہ لگے، وہ سواری کے لیے تیار نہیں۔

جب کوئی نعل معیار بن جائے — تو یہ محض مصنوع نہیں رہتی۔

— ✦ —