ہر کھیل کی ایک دھڑکن ہوتی ہے۔ گھڑ دوڑ دنیا کا واحد کھیل ہے جس کی دھڑکن آپ کانوں سے سن سکتے ہیں — فرلانگ کے کھمبے پر سولہ سموں کی گونج، منظم کھیلوں کی تاریخ کا سب سے پرانا نغمہ۔ تین صدیوں تک اسی دھڑکن نے سلطنتوں، قسمتوں اور اتوار کی سہ پہروں کا رخ متعین کیا۔ مگر آج آپ ریلنگ پر کان لگائیں — کیلیفورنیا میں، کرانجی میں، یا کوٹ لکھپت میں — تو ایک ایماندار سامع کو کچھ اور بھی سنائی دیتا ہے۔ دھڑکن سست پڑ رہی ہے۔ کہیں بے ترتیب ہو چکی ہے۔ اور کہیں کہیں بالکل رک گئی ہے۔

رکنے کی مثال سنگاپور ہے: 5 اکتوبر 2024 کی شام ٹھیک 5 بج کر 40 منٹ پر کرانجی ریس کورس پر آخری ریس ختم ہوئی اور 182 سال کی گھڑ دوڑ ہمیشہ کے لیے تمام ہو گئی — حکومتی فیصلے سے، زمین رہائشی منصوبوں کے لیے واپس لے لی گئی۔ اور سست پڑنے کی مثال امریکہ ہے: پریکنس اسٹیکس — امریکی ٹرپل کراؤن کا دوسرا موتی، جہاں کبھی ایک لاکھ تیس ہزار کا مجمع ہوتا تھا — اس کے 2026 کے ایڈیشن میں تماشائیوں کی حد صرف 4,800 رکھی گئی ہے۔

دو نبضیں ملیں تو رفتار کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ آگے پورا معائنہ ہے — امریکہ، برطانیہ اور یورپ، آسٹریلیا، ایشیا، جاپان اور مشرقِ وسطیٰ — اور پھر یہ لکیر گھر پہنچتی ہے: پاکستان، جہاں کہانی دنیا کے ہر ملک سے زیادہ عجیب ہے۔

48 امریکی ریس کورس بند (2000 سے)
−58% امریکی شرطوں میں حقیقی کمی (2003 سے)
182 سنگاپور کی ریسنگ کے سال — ختم
4,800 پریکنس 2026 کی تماشائی حد

امریکہ: سکڑتی ہوئی سلطنت

دنیا میں کسی ریسنگ ملک نے اتنے میدان نہیں کھوئے جتنے امریکہ نے۔ سنہ 2000 سے اب تک 48 امریکی ریس کورس بند ہو چکے ہیں — اور پچھلے دس برسوں نے نقشے کے سب سے بڑے نام نگل لیے۔ ہالی وڈ پارک، جہاں کبھی تاریخ کے مشہور گھوڑے دوڑے، 2013 میں بند ہو کر فٹبال اسٹیڈیم بن گیا۔ آرلنگٹن پارک — جہاں دنیا کی پہلی دس لاکھ ڈالر کی ریس ہوئی تھی — تقریباً سو سال بعد 2021 میں بند ہوا؛ زمین شکاگو کی فٹبال ٹیم نے خرید لی۔ یہی بتا دیتا ہے کہ امریکہ اب کھیل کی زمین کا بہتر استعمال کسے سمجھتا ہے۔ گولڈن گیٹ فیلڈز 2024 میں بند ہوا۔ صرف ریاست الینوائے نے آٹھ برسوں میں تین ریس کورس کھو دیے۔

بندشوں کے نیچے چھپے اعداد اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہیں۔ مہنگائی نکال کر دیکھیں تو امریکی ریسوں پر لگنے والی شرطیں 2003 سے اب تک تقریباً 58 فیصد گر چکی ہیں۔ سالانہ ریسوں کی تعداد 45 فیصد کم ہو گئی۔ اور افزائشِ نسل کی نرسری بھی سکڑ گئی: امریکہ 1990 میں سال کے 44 ہزار سے زائد تھوروبریڈ بچھڑے پیدا کرتا تھا — آج 18 ہزار سے بھی کم۔

اور پھر بھی — یہی وہ نمونہ ہے جو ہمیں بار بار ملے گا — چوٹی پہلے سے زیادہ سنہری ہے۔ کینٹکی ڈربی (امریکہ کی سب سے بڑی ریس، مئی کے پہلے ہفتے) آج بھی ڈیڑھ لاکھ سے زائد تماشائیوں سے بھری ہوتی ہے۔ چرچل ڈاؤنز کمپنی نے 2024 میں 2.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی دکھائی۔ کینی لینڈ کی سالانہ نیلامی نے 428 ملین ڈالر کا ریکارڈ بنایا، جہاں ایک اَن دوڑا بچھڑا 5 ملین ڈالر میں بکا۔ یعنی کھیل برابر نہیں مر رہا۔ درمیان سے خالی ہو رہا ہے اور چوٹی پر جمع ہو رہا ہے — ایک ریاست، ایک ہفتہ، ایک نیلامی۔ باقی سب کچھ پریکنس ہے، 4,800 روحوں کی حد کے ساتھ۔

برطانیہ اور یورپ: تاج قائم، بنیاد کمزور

برطانیہ میں زوال نرم ہے مگر سمت وہی ہے۔ فوکسٹون ریس کورس 2012 میں بند ہوا؛ ٹاؤسسٹر 2018 میں دیوالیہ ہو کر خاموش ہو گیا۔ ایسکٹ کی عام ریسوں کی اوسط حاضری 2014 کے ساڑھے 23 ہزار سے گر کر 2023 میں ساڑھے 20 ہزار رہ گئی؛ یارک 20 ہزار سے 16 ہزار پر آ گیا؛ اور نیو مارکیٹ — پوری تھوروبریڈ دنیا کا صدر مقام — 9 ہزار سے سوا 6 ہزار پر۔

مگر رائل ایسکٹ — برطانیہ کا شاہی میلہ جہاں بادشاہ کی بگھی آج بھی ٹریک پر آتی ہے — اب بھی پانچ دنوں میں تقریباً تین لاکھ لوگ کھینچتا ہے۔ اور فرانس میں پری دی لارک دی تریومف (یورپ کی سب سے بڑی ریس، اکتوبر کا پہلا اتوار) آج بھی سیزن کا فیصلہ کرتی ہے۔ اسے میلے کا اثر کہہ لیجیے: پانچ بڑے دن اور بڑے ہوتے جاتے ہیں، پچاس عام دن چپ چاپ مرتے جاتے ہیں — اور سب لوگ محفل کی رونق کو مریض کی صحت سمجھ بیٹھتے ہیں۔ پچاس دنوں اور پانچ میلوں کا کھیل صرف پانچ میلوں کا کھیل بنتا جا رہا ہے۔

کھیل برابر نہیں مر رہا۔ درمیان سے خالی ہو رہا ہے اور چوٹی پر جمع ہو رہا ہے — سال کے پانچ شاندار دن، اور بیچ میں خاموشی۔

کینٹکی سے کرانجی تک ایک ہی نمونہ

آسٹریلیا: وہ ریس جو قوم کو روک دیتی تھی

میلبورن کپ کا اپنا نعرہ تھا: "وہ ریس جو قوم کو روک دیتی ہے"۔ اب یہ نعرہ آدھا سوال بن چکا ہے۔ 2003 میں فلیمنگٹن پر تقریباً ایک لاکھ 23 ہزار لوگ آئے تھے؛ حالیہ برسوں میں مجمع 70-80 ہزار کے درمیان رہتا ہے، اور ٹی وی ناظرین 30 لاکھ سے گر کر 2022 میں ساڑھے 13 لاکھ تک آ گئے۔ جانوروں کے حقوق کی ایک باقاعدہ تحریک اب ہر سال خود اس ریس کے خلاف مہم چلاتی ہے۔ ادھر سڈنی نے 2017 میں دی ایوریسٹ ایجاد کی — 20 ملین ڈالر کی بالکل نئی ریس، جس کی کوئی تاریخ نہیں — اور وہ شرطوں میں ملک کی دوسری بڑی ریس بن چکی ہے۔ یعنی پیسہ زوال میں بھی نیا تماشا ڈھونڈ لیتا ہے؛ بس اسے پرانے تماشے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

ایشیا: سب سے بلند خطرے کی گھنٹیاں

سنگاپور — زوال نہیں، خاتمہ

سنگاپور کا الگ ذکر اس لیے ضروری ہے کہ یہ واحد ملک ہے جہاں یہ عمل مکمل ہو گیا۔ کرانجی کی اوسط روزانہ حاضری 2010 میں 11 ہزار تھی، 2019 میں 6 ہزار، اور 2022 میں صرف 2,600۔ جون 2023 میں حکومت نے اعلان کیا کہ زمین رہائش کے لیے چاہیے۔ آخری ریس 5 اکتوبر 2024 کو ہوئی؛ گھوڑوں کی تعداد جو کبھی 700 تھی، آخر میں 240 رہ گئی؛ اور 124 ہیکٹر زمین 2027 تک ریاست کو واپس چلی جائے گی۔ کوئی احتجاج اسے بچا نہ سکا۔ خاتمہ ایسے ہی آتا ہے — دھماکے سے نہیں، زمین کے ایک سرکاری فیصلے سے۔

مکاؤ — دوسرا خاتمہ

سنگاپور سے چھ ماہ پہلے مکاؤ نے بھی یہی کیا۔ مکاؤ جاکی کلب نے 2024 کے موسمِ بہار میں اپنی آخری ریس چلائی اور چار دہائیوں سے زائد کی ریسنگ ختم ہو گئی۔ ایک ہی سال میں ایشیا کے دو ریسنگ ملک صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ جدید تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔

ہانگ کانگ — امیر، مگر خاموش فکرمند

ہانگ کانگ دنیا کی سب سے مضبوط ریسنگ معیشت ہے — اور وہ بھی اب گریبان درست کر رہا ہے۔ 2023-24 کے سیزن میں ریسنگ کی شرطوں کا حجم 4.5 فیصد گرا، اور جاکی کلب کے اپنے سربراہ نے کمزور معیشت کے ساتھ ساتھ ایک اور بات مانی: ریسوں کے میدان پورے نہیں بھر پا رہے۔ کلب نے جواب میں مراعات کی بوچھاڑ کر دی — ریکارڈ انعامی رقوم، درآمدی گھوڑوں کے لیے نرم شرائط، جیتنے والے درآمدی گھوڑوں پر 15 لاکھ ہانگ کانگ ڈالر تک کے بونس۔

اور پھر سب سے زیادہ معنی خیز قدم۔ 2025 میں کلب نے فی مالک گھوڑوں کی حد بڑھا دی — پہلے چار سے پانچ، پھر سات گھوڑے فی مالک؛ سنڈیکیٹ کی رکنیت بھی چار سے سات کر دی گئی۔ اسے گھوڑوں والے کی نظر سے پڑھیے: جب کوئی ادارہ ہر مالک کو زیادہ گھوڑے رکھنے کی اجازت دیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے مالکان کم پڑ رہے ہیں۔ اصطبل تو بھرنے ہیں۔ کم ہاتھ، فی ہاتھ زیادہ گھوڑے — یہ ترقی نہیں ہے۔ یہ سکڑاؤ ہے جس نے ترقی کی وردی پہن رکھی ہے۔

جاپان: وہ مشین جس کی دھڑکن قائم رہی

اگر اس کھیل کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ زوال مقدر نہیں تو وہ جاپان ہے۔ جاپان ریسنگ ایسوسی ایشن نے 2024 میں 3,333 ارب ین — تقریباً 22 ارب ڈالر — کی شرطوں کا کاروبار کیا، جو سنہ 2000 کے بعد اس کا بہترین سال تھا، اور یہ مسلسل دس سال کی سالانہ ترقی کے بعد آیا۔ جاپانی نسل کے گھوڑے اب دنیا کی بڑی ریسیں جیت رہے ہیں اور جاپانی افزائشِ نسل پر ہر ملک رشک کرتا ہے۔

مگر یہ دیکھیے کہ جاپان نے یہ کیا کیسے — کیونکہ اسی "کیسے" میں سبق بھی ہے اور تنبیہ بھی۔ تقریباً پورا کاروبار اب ریس کورس سے باہر ہوتا ہے — جاکی کلب کے اپنے آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارمز پر۔ 2023 میں ریس کورس کی حاضری تقریباً 46 لاکھ رہی، جو وبا سے پہلے کے مقابلے میں کہیں کم ہے، اور شرطوں کا تاریخی ریکارڈ آج بھی 1997 کا ہے۔ جاپان نے عالمی رجحان کو الٹا نہیں — اس پر سواری کر لی۔ اس نے کھلاڑی کو کسی حریف سے پہلے خود موبائل فون پر منتقل کر دیا۔ اور یوں دونوں باتیں ایک ساتھ ثابت کر دیں: گھڑ دوڑ ڈیجیٹل جوئے کی جنگ جیت سکتی ہے — اور جیت کر بھی گرینڈ اسٹینڈ دوبارہ نہیں بھرتا۔ دھڑکن مضبوط ہے۔ بس اب وہ ایک ایپ کے اندر دھڑکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ: الٹی لہر

اور پھر وہ واحد خطہ جہاں تیر اوپر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ دبئی ورلڈ کپ — 1996 سے میدان ریس کورس پر — 12 ملین ڈالر کی ریس ہے جس نے خلیج کو عالمی کیلنڈر کا مستقل حصہ بنا دیا۔ سعودی عرب اس سے بھی آگے نکل گیا: سعودی کپ، 2020 میں شروع ہوا، 20 ملین ڈالر کے ساتھ دنیا کی سب سے مہنگی ریس ہے، اور ریاض کا فروری میلہ اب امریکہ، جاپان اور یورپ کے چیمپئن گھوڑے اس طرح کھینچتا ہے جیسے دہائیوں میں کوئی نیا مقابلہ نہیں کھینچ سکا۔ ہر سرخی کے اعتبار سے یہی عالمی ریسنگ کا عروج والا شعبہ ہے۔

مگر تصویر کے دونوں رخ بیان ہونے چاہییں۔ خلیجی ماڈل ایک ایسی چوٹی ہے جس کے نیچے پہاڑ نہیں: انعامی رقوم ریاستی خزانے سے آتی ہیں، دونوں ملکوں میں شرط لگانا ممنوع ہے، مقامی مالکان کی تعداد محدود ہے، اور بڑے میلوں کے گھوڑے بڑی حد تک باہر سے آتے ہیں۔ یہ ریسنگ بطور قومی نمائش ہے — شاندار، مخلص، مگر ان معیشتوں سے ساختی طور پر مختلف جنہیں وہ بولی میں پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ کیا یہ خود کفیل ریسنگ ثقافت بنے گی یا سال کی ایک شاندار نمائش رہے گی — یہ سوال کھلا ہے۔ جو بات کھلی نہیں، وہ یہ کہ پیسہ — اور اس کے ساتھ کششِ ثقل — کہاں منتقل ہو چکی ہے۔

بجھتے چراغ · بند ہونے والے ریس کورس، 2012 تا 2026
ریس کورسملکآخری سالانجام
فوکسٹونانگلستان2012بند؛ رہائشی منصوبے زیرِ غور
ہالی وڈ پارکامریکہ2013مسمار؛ فٹبال اسٹیڈیم
مے ووڈ اور بالمورلامریکہ2015بند
ٹاؤسسٹرانگلستان2018دیوالیہ؛ ریسنگ ختم
آرلنگٹن پارکامریکہ2021شکاگو بیئرز کو فروخت
مکاؤ (تائپا)مکاؤ2024پورے خطے میں ریسنگ ختم
سنگاپور (کرانجی)سنگاپور2024182 سالہ ریسنگ ختم؛ زمین ریاست کو
گولڈن گیٹ فیلڈزامریکہ2024مالکان نے بند کیا
راولپنڈیپاکستان—ریسنگ ختم؛ زمین دوسرے استعمال میں

آخر اسے مار کیا رہا ہے؟

کسی ادارے، تجزیہ کار یا محقق کے پاس ایک صاف جواب نہیں — اور جو کھیل ہر چیز سیکنڈ کے پانچویں حصے تک ناپتا ہو، اس کے لیے یہ بات خود حیرت انگیز ہے۔ تو ایماندارانہ طریقہ جاسوس کا طریقہ ہے: تمام ملزموں کو قطار میں کھڑا کیجیے اور ہر ایک کو شواہد پر پرکھیے۔

کیا آن لائن جوئے نے پیسہ چھین لیا؟ اعداد بڑی حد تک کہتے ہیں: ہاں۔ بیسویں صدی کے بیشتر حصے میں ریسنگ کو قانونی شرط پر تقریباً اجارہ داری حاصل تھی؛ وہ اجارہ داری ختم ہو چکی۔ امریکہ میں قانونی اسپورٹس بیٹنگ 2018 میں تقریباً صفر سے شروع ہو کر 2024 تک سالانہ لگ بھگ 150 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ عالمی آن لائن جوئے کی صنعت اب سال کے تقریباً 100 ارب ڈالر کے قریب ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اسی عرصے میں امریکی ریسنگ کی شرطیں حقیقی قدر میں 58 فیصد گریں۔ پیسہ غائب نہیں ہوا — وہ ان مصنوعات کی طرف ہجرت کر گیا جو تیز تر ہیں، موبائل پر ہیں، اور جن کے لیے فارم پڑھنے کی محنت درکار نہیں۔ جاپان وہ استثنا ہے جو اصول ثابت کرتا ہے: اس نے کھلاڑی کو صرف اس لیے بچا لیا کہ خود آن لائن بیٹنگ کمپنی بن گیا۔

کیا یہ توجہ کی معیشت ہے؟ غالباً دوسرے درجے کی وجہ۔ ریس کا دن چار گھنٹے مانگتا ہے اور ہر آدھے گھنٹے میں دو منٹ کا ایکشن دیتا ہے؛ تفریح کی منڈی جیتنے والے فارمیٹ مختصر، گھنے اور ہر وقت دستیاب ہیں۔ ریسنگ کی بنیادی مہارت — فارم پڑھنا — بالکل وہی محنت ہے جس کی جدید صارف سزا دیتا ہے۔ اسی مفروضے سے وہی نتیجہ نکلتا ہے جو ہم دیکھ رہے ہیں: نشریاتی ناظرین شرطوں سے بھی تیزی سے گرتے ہیں، اور میلے — جو فارم کی مشق نہیں بلکہ سماجی تقریب ہیں — عام دنوں سے کہیں بہتر چلتے ہیں۔

کیا جانوروں کی بہبود کا معاملہ ہے؟ مغرب میں ایک حقیقی مخالف ہوا، اور ناپی بھی جا سکتی ہے: آسٹریلیا کی مہم میلبورن کپ کے ناظرین کے زوال کے ساتھ چلتی ہے۔ مگر عالمی وضاحت کے طور پر یہ دلیل ناکام ہو جاتی ہے — سنگاپور اور مکاؤ زمین کی معیشت پر بند ہوئے، احتجاج پر نہیں۔ بہبود کا دباؤ اسپانسرشپ اور نشریات مہنگی کر دیتا ہے؛ بلڈوزر خود شاذ ہی چلاتا ہے۔

یا پھر — اور یہی گہری بات ہے — کیا ریسنگ ہمیشہ سے پرانا طریقہ تھی، پرانے پیسے پر چلتی ہوئی؟ ملکیت کا ماڈل — بھاری مستقل خرچ، منفی متوقع منافع، اور صلہ صرف وقار — اشرافیہ، نوابوں اور خاندانی دولت کے لیے بنایا گیا تھا، جن کا دولت پر غلبہ اب باقی نہیں۔ نیا سرمایہ فٹبال کلب اور کمپنیوں کے حصص خریدتا ہے، گھوڑوں کی قطاریں نہیں۔ ثبوت خود کھیل کے اقدامات میں ہے: ہانگ کانگ کی بڑھتی ہوئی ملکیتی حدیں، ہر جگہ پھیلتے سنڈیکیٹ، حصص در حصص ملکیت کی اسکیمیں۔ جو صنعت اپنے بنیادی اثاثے کو مسلسل چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ رہی ہو، وہ دراصل اعتراف کر رہی ہے کہ ایک جھنڈے والا پرانا مالک اب گھٹتی ہوئی مخلوق ہے۔

سب سے قابلِ دفاع نتیجہ: کوئی ایک قاتل نہیں، بلکہ مرکب کٹاؤ — شرطوں کی منڈی میں شکست، توجہ کے دور سے ناموافقت، ساکھ کی مخالف ہوا، اور مالکان کے طبقے کا آبادیاتی زوال، سب ایک ساتھ۔ اور یہی بات پاکستان کو نقشے کا سب سے دلچسپ مقدمہ بنا دیتی ہے۔

پاکستان: تین موتی

پاکستانی ریسنگ ہمیشہ جاکی کلب آف پاکستان کے تحت تین میدانوں پر کھڑی رہی: لاہور، کراچی اور راولپنڈی۔ سنہری دہائیوں میں — اور اسّی کی دہائی تو شان و شوکت کا زمانہ تھی — یہ تین الگ دنیائیں نہیں بلکہ ایک سرکٹ تھیں۔ اُس دور کے بڑے مالکان کے گھوڑے تینوں شہروں میں دوڑتے تھے۔ ہفتے میں کئی کئی ریس ڈے ہوتے؛ ایک اصطبل لاہور میں دوڑتا، پنڈی روانہ ہوتا، اور پندرہ دن پورے ہونے سے پہلے کراچی کے کارڈ پر اس کا نام ہوتا۔ مالک، ٹرینر، جاکی اور بکی اس تکون کے گرد یوں گھومتے تھے جیسے انگریز کبھی نیو مارکیٹ، ایپسم اور ڈنکاسٹر کے درمیان گھوما کرتے تھے۔ تین موتی، ایک تاج۔

آج اس تاج کا ایک موتی چمک رہا ہے، ایک مدھم ہے، اور ایک بجھ چکا ہے۔

راولپنڈی — خاموش الوداع

یہ بات احترام سے کہی جائے، کیونکہ احترام واجب ہے۔ راولپنڈی ایک اصلی ریسنگ شہر تھا — سرکٹ کا شمالی بازو، اپنا مجمع، اپنے کردار، اپنی سردیوں کی دھوپ۔ اب وہاں ریسنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، اور خود زمین دوسرے استعمال کے سپرد ہو گئی — ریسنگ برادری کے بقول عطیہ کر دی گئی۔ نہ کوئی واپسی کا میٹنگ ہو گا، نہ بحالی کا سیزن۔ جب ریس کورس اپنا پروگرام کھوتا ہے تو امید زندہ رہتی ہے؛ جب زمین کھو دیتا ہے تو تاریخ کتاب بند کر دیتی ہے۔ یہ سنگاپور والا انجام ہے — مگر بغیر الوداعی ریس کے، بغیر دس ہزار گواہوں کے۔ ایک پورے عہد کی موت: ہفتہ بھر چلنے والے سرکٹ کی، تینوں شہروں میں دوڑنے والے مالکان کی۔ جو لوگ اسّی کی دہائی میں پنڈی کے میدان پر گھوڑے دوڑاتے تھے، وہی آخری لوگ ہیں جنہیں یاد ہے کہ وہ احساس کیسا تھا — اور کھیل نے اُس عہد کا جنازہ تک نہ پڑھا۔

کراچی — طویل جدوجہد

کراچی ختم نہیں ہوا، مگر جو اس سے محبت کرتا ہے وہ اسے تندرست بھی نہیں کہے گا۔ وہاں گھوڑے رکھنا اور دوڑانا مشکل سے مشکل تر ہو گیا ہے — لاجسٹکس سے لے کر اس بنیادی مسئلے تک کہ عین اُن اوقات میں بجلی غائب ہوتی ہے جب اصطبل کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مالکان کی بنیاد سکڑ کر مٹھی بھر رہ گئی ہے: دو تین بڑے نام، دو تین پہچانی جانے والی سِلکس، جہاں کبھی درجنوں ہوا کرتی تھیں۔ کراچی کے کئی مالک اب عملاً لاہور میں پارٹ ٹائم ہیں — اپنے بہتر گھوڑے پنجاب میں رکھتے ہیں جہاں ریسیں واقعی بھرتی ہیں۔

ایک جرات مندانہ جوابی وار ہوا، اور اس کا ذکر اسی لیے ضروری ہے کہ وہ ناکام ہوا۔ کراچی کے کچھ مالکان نے باہر سے گھوڑے درآمد کیے — اصلی پیسہ، اصلی نیت، پروگرام کو دوبارہ زندہ کرنے کی سچی کوشش۔ مگر وہ ریسیں ہی منعقد نہ ہو سکیں جن میں انہیں دوڑنا تھا۔ درآمدی گھوڑے اصطبل میں کھڑے ہوں اور دوڑنے کے لیے کوئی کارڈ نہ ہو — کسی ریسنگ مرکز کی مشکل کی اس سے صاف تصویر شاید ممکن نہیں: مال پہنچ گیا، اور خود کھیل غیر حاضر رہا۔

اور پھر قائدِ اعظم کپ ہے — کراچی کی پہچان، اس کی سب سے بڑی ریس۔ حالیہ برسوں میں اس کی مسافت بدلی گئی، اور بعض سیزنوں میں یہ سرے سے منعقد ہی نہیں ہوئی۔ لاہور کا کوئی اصطبل اب اس کے لیے جنوب کا سفر نہیں کرتا۔ کلاسک ریس تو وہ مستقل نقطہ ہوتی ہے جس کے گرد باقی سب کچھ گھومتا ہے؛ جب خود کلاسک شکلیں بدلنے لگے — کبھی چھوٹی، کبھی ملتوی، کبھی غائب — تو وہ مستقل نقطہ نہیں رہتی، ہوا کا رخ بتانے والا پرچم بن جاتی ہے۔ کیا کلب کا باب تقریباً بند ہو چکا، یا سردیوں کا سیزن — جب کراچی کا موسم پاکستان کا بہترین ریسنگ موسم ہوتا ہے — کوئی واپسی دکھائے گا؟ ایمانداری کا جواب: فیصلہ سردیاں کریں گی، اور حالیہ سردیوں کا فیصلہ مہربان نہیں رہا۔

تین موتی · صورتحال 2026
لاہور فعال اور غالب — مکمل کلاسک کیلنڈر، بڑھتی انعامی رقوم، مگر ہفتہ وار ہینڈی کیپ سکڑتی ہوئی
کراچی مشکل میں — دو تین بڑے مالک باقی، قائدِ اعظم کپ بدلا ہوا یا ملتوی، مالکان لاہور میں پارٹ ٹائم
راولپنڈی ریسنگ ختم — زمین دوسرے استعمال کے سپرد؛ پرانے سرکٹ کا شمالی بازو ختم

لاہور: تضاد

اب سب کچھ لاہور سے گزرتا ہے — تو کہانی کا یہ حصہ سب سے سیدھا ہونا چاہیے تھا۔ معاملہ الٹ ہے۔ لاہور اس وقت دنیا کی سب سے عجیب ریسنگ معیشت ہے، کیونکہ یہاں بیک وقت دو ایسی چیزیں ہو رہی ہیں جو ایک ساتھ سچ نہیں ہونی چاہییں۔

ایک طرف: افزائشِ نسل عروج پر ہے۔ پچھلے دس برسوں میں پاکستانی تھوروبریڈ کا معیار صاف نکھرا ہے — بہتر نر، بہتر مادہ، بہتر جسامت کے بچھڑے، اور کہا جاتا ہے کہ تعداد بھی بڑھی ہے۔ کلاسک ریسوں کی انعامی رقوم دس گنا ہو چکی ہیں۔ اور نرسری میں طلب اب اصطبلوں کی داستان بن چکی ہے: کہا جاتا ہے کہ ہر بچھڑا پیدائش کے چند منٹوں میں بک جاتا ہے — کھڑا ہونے سے پہلے سودا، دودھ چھوٹنے سے پہلے رسید۔ اوپر کے ہر اشارے سے یہ کھیل صحت مند ہے۔

دوسری طرف: ہینڈی کیپ سکڑ رہی ہے۔ مہینہ در مہینہ لاہور ریس کلب کے ہفتہ وار کارڈ پر گھوڑے کم ہو رہے ہیں۔ جو میدان کبھی چھلکتے تھے اب بھرنے پڑتے ہیں۔ عام اتوار — کھیل کی روٹی، وہ ریسیں جو ڈربی نہیں، ٹرم کپ نہیں، بس ایمانداری کی ہینڈی کیپ ہیں — نظروں کے سامنے سمٹ رہا ہے۔ نیچے کے ہر اشارے سے یہ کھیل پسپا ہے۔

اور یہیں صحافی کا سوال بنتا ہے، جو بغیر لپیٹ کے پوچھا جانا چاہیے: اگر پنجاب کا ہر بچھڑا کھڑے ہونے سے پہلے بک جاتا ہے تو ریس کے دن وہ سب ہیں کہاں؟ جو بچھڑا منٹوں میں بکے، اسے تین سال بعد گیٹ میں کھڑا ہونا چاہیے۔ مگر یہاں نرسری میں دھکم پیل ہے اور ریس کورس پر خالی جگہیں — ایک ہی صنعت، ایک سرے پر عروج اور دوسرے پر زوال۔ آخر یہ تضاد ہے کیا؟

ہر بچھڑا، بقول اصطبلوں کے، پیدائش کے منٹوں میں بِکا ہوا۔ ہینڈی کیپ مہینہ در مہینہ سکڑتی ہوئی۔ لاہور میں دونوں باتیں بیک وقت سچ ہیں — اور دونوں ہمیشہ سچ نہیں رہ سکتیں۔

لاہور کا تضاد

دونوں باتیں ایک ساتھ کیسے سچ ہو سکتی ہیں؟ سوالات کو پھر اسی ایمانداری سے پرکھتے ہیں۔

کیا یہ مہنگائی ہے؟ دس گنا انعامی رقوم شاندار لگتی ہیں — جب تک آپ دانہ، نعل بندی، نقل و حمل، تنخواہیں اور ڈاکٹر کا بل اسی دہائی کے روپوں میں نہ جوڑیں۔ اگر اخراجات عام ہینڈی کیپ گھوڑے کے لیے — جو سیزن میں ایک ریس جیتتا ہے، پانچ نہیں — بڑھی ہوئی رقوم سے بھی آگے نکل چکے ہیں، تو حساب کتاب خاموشی سے کھیل کے درمیانے طبقے کو ختم کر دیتا ہے جبکہ چوٹی پھلتی پھولتی رہتی ہے۔ نتیجہ بالکل وہی جو ہم دیکھ رہے ہیں: ممکنہ کلاسک بچھڑے کی شدید طلب، اور ایماندار محنتی گھوڑے کے لیے ختم ہوتا صبر۔

کیا گھوڑا رکھنے کا انداز بدل گیا ہے؟ گھوڑا دوڑانا ہفتہ وار حاضری، عملہ اور وقت مانگتا ہے؛ گھوڑا رکھنا صرف سرمایہ مانگتا ہے۔ اگر خریداروں کا بڑھتا حصہ بچھڑے کو دوڑنے والا نہیں بلکہ اثاثہ سمجھتا ہے — خریدا، رکھا، آگے بیچا — تو افزائش کی طلب اور ریس کی رسد ایک دوسرے سے کٹ جاتی ہیں۔ بچھڑا منٹوں میں بکتا ہے؛ گھوڑا کبھی ڈیکلریشن شیٹ تک نہیں پہنچتا۔ یہ اکیلا میکانزم تضاد کے دونوں سرے بیک وقت پیدا کر دیتا ہے: بھری ہوئی نرسری اور بھوکا ریس کارڈ۔ گھوڑوں کی آبادی اور دوڑنے والوں کی آبادی دو الگ عدد بن جاتے ہیں۔

یا ڈھانچے میں کوئی گہری خرابی ہے؟ وہی مرض جو ہم نے پوری دنیا میں تشخیص کیا: ارتکاز۔ سب کچھ چوٹی پر جمع ہو رہا ہے — کلاسک ریسیں، بڑے ویک اینڈ، دس گنا رقوم — جبکہ عام ریسنگ کے جوڑنے والے ریشے کمزور پڑ رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے لاہور محض دنیا کا تجربہ مقامی پیمانے پر دہرا رہا ہو: پانچ شاندار دنوں اور ایک دبلے اتوار کا کھیل۔

اور اس سب میں کھیل کے شراکت دار کہاں ہیں؟ یہ وہ امتحان ہے جو صحت مند کھیل بغیر سوچے پاس کر لیتا ہے۔ اگر انعامی رقوم دس گنا ہو چکی ہیں اور نسل واقعی نکھر گئی ہے تو کھیل کو کندھا دینے والے — مالک، ٹرینر، بریڈر، خود کلب — ہر سیزن خود کو زیادہ خوشحال، زیادہ فخرمند اور زیادہ جڑا ہوا محسوس کریں۔ کیا کرتے ہیں؟ اور اسی امتحان کی تیز تر شکل: اسپانسر چیک لے کر قطار میں کیوں نہیں کھڑے کہ ان کا نام کپوں اور پوڈیم پر لکھا جائے؟ برانڈ ناظرین خریدتے ہیں، اور اعداد سے خریدتے ہیں — حاضری، نشریات کی پہنچ، سوشل میڈیا۔ لاہور کی ریسنگ فی الحال اسپانسر کو ان میں سے کچھ بھی قابلِ پیمائش شکل میں نہیں دیتی: نہ ٹی وی پروڈکٹ، نہ گنی ہوئی حاضری، نہ بیچنے کے لیے پیک شدہ حقوق۔ وقار حقیقی ہے، مگر وہ برادری کے اندر اندر گردش کرتا ہے — مارکیٹنگ کے کسی شعبے کو دکھائی نہیں دیتا۔ جس کھیل کی شان ناپی نہ جا سکے وہ اسپانسر نہیں ہو سکتا — اور جو کھیل اسپانسر نہ ہو سکے اسے مکمل طور پر مالکان کے شوق پر چلنا پڑتا ہے، اور بات پھر وہیں پہنچ جاتی ہے جہاں سے کٹاؤ شروع ہوتا ہے۔

اور آخر میں وہ سوال جو ریسنگ برادری کی نیندیں اڑا دینا چاہیے: پولو کیوں پھل پھول رہا ہے جبکہ ریسنگ سکڑ رہی ہے؟ پاکستانی پولو کو نئے سرپرست مل گئے ہیں — نئے خاندان، نیا پیسہ، نئے اسپانسر، سیزن کے لیے آنے والے غیر ملکی کھلاڑی۔ جانور وہی ہے، اکثر طبقہ بھی وہی، شہر بھی وہی۔ اگر مسئلہ گھوڑے میں ہوتا تو پولو بھی بیمار ہوتا۔ وہ نہیں ہے۔ یعنی مسئلہ نہ گھوڑا ہے نہ پیسہ — مسئلہ پروڈکٹ ہے۔ پولو نے اپنی سماجی پیشکش کو جدید بنا لیا؛ پولو کا ویک اینڈ اُس تیس سالہ نوجوان کو بھی سمجھ آ جاتا ہے جس نے کبھی کھیل نہیں دیکھا۔ ریس کا کارڈ نو وارد کے لیے ہوم ورک ہے۔ نئے سرپرست وہی کھیل کھینچ رہے ہیں جنہوں نے شامل ہونا آسان بنا دیا۔ اور ریسنگ نے — پوری دنیا میں — چھوڑ دینا آسان بنا رکھا ہے۔

اگلی دہائی کا فیصلہ کرنے والے سوالات
  • کیا ہفتہ وار ہینڈی کیپ عام مالک کے لیے دوبارہ قابلِ برداشت بنائی جا سکتی ہے — یا لاہور صرف کلاسک ریسوں کا مرکز بن جائے گا؟
  • کیا کراچی کی سردیاں حقیقی بحالی لائیں گی، یا ایک ایسا الوداع جس کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی؟
  • کیا افزائش کا عروج ریس کورس تک پہنچے گا — یا اس کے پاس سے گزر جائے گا، ایسے گھوڑے پیدا کرتا ہوا جو رکھے تو جاتے ہیں مگر دوڑائے نہیں جاتے؟
  • کیا ریسنگ پولو کی کتاب سے سیکھ سکتی ہے: نئے سرپرست، سمجھ آنے والی شان، اور ایسی سماجی محفل جس میں نو وارد چل کر داخل ہو سکے؟
  • اور عالمی سطح پر — جب صرف میلے باقی رہ جائیں تو وہ کھیل ہوتے ہیں، یا ایسا عجائب گھر جس کے نوادرات بہت تیز دوڑتے ہیں؟

عنوان کا سوالیہ نشان

غور کیجیے کہ اس مضمون کا عنوان سوالیہ نشان پر ختم ہوتا ہے، اور یہ نشان ایمانداری سے اپنا کام کر رہا ہے۔ ریسنگ مری نہیں ہے۔ کینٹکی ڈربی پہلے سے زیادہ امیر ہے۔ رائل ایسکٹ پہلے سے زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ ہانگ کانگ ایک سیزن میں اتنا کاروبار کرتا ہے جتنا کئی ملکوں کی اسٹاک مارکیٹیں نہیں کرتیں۔ اور کوٹ لکھپت پر، صحیح اتوار کو، صحیح گھوڑی کے ساتھ — ہم نے اسی سیزن میں دیکھا ہے — یہ کھیل دنیا کی کسی بھی چیز جتنا زندہ ہے۔

مگر کھیل اپنی چوٹیوں کا نام نہیں۔ کھیل اپنے عام دنوں کا نام ہے — میڈن ریسیں، ایماندار ہینڈی کیپیں، ایک گھوڑے اور بڑی امیدوں والے چھوٹے مالک، اور پنڈی کے وہ میٹنگ جن کا شہر سے باہر کسی نے نام نہ سنا۔ یہی ریشہ ہے جو ایک دہائی سے مر رہا ہے — کیلیفورنیا سے کرانجی تک، اور کرانجی سے راولپنڈی تک۔ میلے وہ دھڑکن ہیں جو سب کو سنائی دیتی ہے۔ ہینڈی کیپ کلائی کی نبض ہے — مدھم، مگر ابھی موجود، اور ابھی ٹٹولنے کے قابل۔

Z-Stables کی بنیاد 1969 میں رکھی گئی — یعنی ہم نے یہ کھیل پاکستان کی آدھی سے زیادہ عمر تک دیکھا ہے: شان و شوکت کا زمانہ، تین شہروں کا سرکٹ، پنڈی کی خاموشی، اور اب جو بھی آگے آنا ہے۔ ہمارا ارادہ ہے کہ نسل بڑھاتے رہیں، نعل لگاتے رہیں، دوڑاتے رہیں، اور لکھتے رہیں۔ اگر یہ واقعی ریس کے گھوڑے کی آخری دھڑکن ہے تو کم از کم کسی کے ہاتھ میں تو نبض ہو۔ اور اگر نہیں ہے — اگر نبض سنبھل جائے، اگر سردیاں کراچی کو لوٹا دیں، اگر اس بہار کے بچھڑے واقعی گیٹ تک پہنچ جائیں — تو جب وہ لمحہ آئے، ہم ریلنگ پر کھڑے ملنا چاہیں گے۔

ریکارڈ کے لیے · Z-Stables، قائم 1969

Z-Stables اس کہانی کے ہر باب میں لاہور کے میدان پر موجود رہا ہے — پرانی دہائیوں کا تین شہروں والا سرکٹ، کوٹ لکھپت کی نئی تعمیر، اور موجودہ سیزن، جہاں ہمارے گھوڑے آج بھی اسٹارٹر کی پکار کا جواب دیتے ہیں۔ کھیل کا مستقبل ہر جگہ غیر یقینی ہے۔ اس میں ہماری شرکت نہیں۔